Class Room activities,work sheets, videos and pdfs, literature of Urdu, kannada and English, SSLC passing package, KARNATAKA SCHOOLS Administration forms and formats etc
PUC CORNER
- I Urdu CRC DEVDURGA I
- I mmn morals l
- I mmn tutorials I
- I TEACHERS CORNER I
- I SSLC STUDENTS AND TEACHERS CORNER I
- I PUC CORNER I
- I COMPETATIVE EXAMINATION I
- I Watsup knowledge and Information l
- I HEALTH AND HYGIENE I
- I COMPUTER KNOWLEDGE l
- I BEST GRAPHICS l
- I NATIONAL FESTIVALS l
- I URDU NEWS PAPER I
- I OFFICIALS I
- I THE KIDS CORNER I
Thursday, September 24, 2020
Monday, September 21, 2020
اردو کی معلومات
ارد و کے پہلے شاعر امیر خسرو
طوطی ہند. امیر خسرو
اردو کی پہلی کتاب. سب رس
اردو کے پہلے رباعی گو. ملاوجہی
پہلے نوبل انعام یافتہ. رابندر ناتھ ٹیکور
اردو کی پہلی شاعرہ ماہ لقابائی چندہ
اردو نظم کے پہلے شاعر. . نظیر اکبر آبادی
پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب
پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقابائی چندہ
اردو کے پہلے مورخ رام بابو سکینہ
اردو کا پہلا ناول. مراۃالعروس
اردو کا پہلا فسانہ. سوزوطن
اردو کے پہلےہندو شاعر. نام دیو
اردو کی طویل ترین نظم. مدوجزر اسلام
دنیا کی طویل ترین نظم. مہا بھارت
اردو کا پہلا اخبار. جام جہاں نما
پہلے قصیدہ اور مراثیہ گو. فضلی
اردو کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نزیر احمد
اردو کے پہلےافسانہ نگار پریم چند
اردو کا پہلا ڈرامہ. اندرسبھا
پہلے پنجابی. شاعر. بابافرید گنج شکر
پشتو کے پہلے شاعر. امیر کروڑ
پاکستان کی پہلی شاعرہ. ادا جعفری
اردو کے پہلے ہجو گو. رفیع الدین
اردو کے پہلے صوفی شاعر. خواجہ میر درد
بچوں کے پہلےاردو شاعر. اسماعیل میرٹھی
اردو کے پہلے مضمون نگار. سر سید احمد خان
اردو کے پہلے انشائیہ نگار سر سید احمد خان
اردو کا پہلا ڈرامہ نگار. امانت لکھنوی
#اردو_ادب شعارکے حوالےسے چند معلومات
1۔ پہلے مشہور شاعر ۔ امیر خسرو
2۔ پہلے صاحب دیوان شاعر ۔ محمد قلی قطب شاہ
3۔ پہلے صوفی شاعر ۔ میر درد
4۔ پہلے ناول نگار ۔ ڈپٹی نذیر احمد (مراۃ العروس)
5۔ پہلے افسانہ نگار ۔ پریم چند
6۔ پہلے نثر نگار ۔ ملا وجہی (سب رس)
7۔ قصیدے کی ابتداء ۔ محمد رفیع سودا
8۔ پہلے مضمون نگار ۔ سید احمد خان
9۔ سفرنامہ کا آغاز ۔ یوسف کمبل پوش
10۔ خطوط نگاری کا آغاز ۔ مرزا غالب (عود ہندی)
11۔ خاکہ نگاری کا آغاز ۔ فرحت اللہ بیگ
12۔ ملی و قومی شاعری ۔ الطاف حسین حالی
13۔ پہلے ڈرامہ نگار ۔ امانت لکھنوی (اندر سبھا)
14۔ سوانح نگاری ۔ الطاف حسین حالی
15۔ عوامی شاعر ۔ نذیر اکبرآبادی
16۔ شاعر انقلاب + شاعر اعظم ۔ جوش ملیح آبادی
17۔ مصور غم۔ علامہ راشد الخیری
18۔ مصور حقیقت ۔ علامہ اقبال
19۔ شاعر اسلام ۔ حفیظ جالندھری
20۔ تاریخی ناول۔ نسیم حجازی
21۔ علم الاقتصاد ۔ علامہ اقبال کی پہلی نثری کتاب
22۔ اردو کا عمر خیام۔ ریاض خیر آبادی
23۔ اردو کا شیکسپیئر ۔ آغا حشر کاشمیری
24۔ طوطی ہند۔ امیر خسرو
25۔ پہلے تنقید نگار۔ مولانا الطاف حسین حالی (مقدمہ شعر و شاعری )
26۔ خدائے سخن شاعر ۔ میر تقی میر
27۔ غالب سے پہلے دربار سے منسلک شاعر ۔ ذوق
28۔ علامہ اقبال کی پہلی نظم ۔ ہمالہ
29۔ علامہ اقبال کا پہلا اردو شاعری مجموعہ ۔ بانگ درا
30۔ علامہ کا اردو اور فارسی پر مشتمل شاعری مجموعہ ۔ ارمغان حجاز
32۔ نظم ساقی نامہ ۔ علامہ اقبال
33۔ اردو کا لفظی مطلب ۔ لشکر
34۔ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے
35۔ ریختہ کا مطلب ۔ ایجاد کرنا
36۔ ریختی شاعری ۔ زنانہ شاعری
37۔ مغل دور کی سرکاری زبان ۔ فارسی
38۔ اردو کی ترویج، انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج قائم کیا
39۔ اردو نثر کا آغاز ۔ فورٹ ولیم کالج
40۔ اردو دفتری زبان بنی۔ 1832
41۔ آب گم کس۔ مشتاق احمد یوسفی
42۔ نیرنگ خیال۔ محمد حسین آزاد
43۔ آب حیات ۔ محمد حسین آزاد
44۔ کپاس کا پھول ۔ احمد ندیم قاسمی
45۔ قرآن مجید کا پہلا اردو ترجمہ ۔ شاہ رفیع الدین 1786
46۔ قرآن مجید کا پہلا بامحارہ اردو ترجمہ ۔ شاہ عبدالقادر 1790
47۔ شعراء کی چپقلش تھی۔ انشاء اور جرات
48۔ سراوادی سینا۔ فیض احمد فیض
49۔ دست صبا ۔ فیض
50۔ نقش فریادی۔ فیض
51۔ غبار ایام۔ فیض
52۔ دست تہہ سنگ ۔ فیض
53۔ فسانہ عجائب ۔ رجب علی بیگ
54۔ ماہ تمام ۔ پروین شاکر
55۔ صدبرگ ۔ پروین شاکر
56۔ روزنامہ جنگ کے بانی۔ میر خلیل الرحمٰن
57۔ رباعی کا سب سے بڑا شاعر ۔ عمر خیام
58۔ بازار حسن۔ پریم چند
59۔ آنگن ۔ خدیجہ مستور
60۔ اداس نسلیں ۔ عبداللہ حسین
61۔ راجہ گدھ ۔ بانو قدسیہ
62۔ میر انیس ۔ مرثیہ نگاری
63۔ شہر آشوب ۔ ظفر علی خان
64۔ تلمیح ۔ تاریخی اشارہ
65۔ ڈرامہ، اندھیرا اجالہ۔ یونس جاوید
66۔ آرام و سکون ۔ امتیاز علی تاج
67۔ ترقی پسند تحریک ۔ 1936
68۔ ترقی پسند تحریک کی بنیاد ۔ مارکس ازم
69۔ آگ کا دریا ۔ قرت العین حیدر
70۔ رباعی ۔ چار مصرعے
71۔ مخمس ۔ جس نظم کے تمام بندھ پانچ مصرعوں پر مشتعمل ہوں
72۔ مسدس ۔ نظم جس کا ہر بندھ چھ مصرعوں پر مشتعمل ہوتا ہے
73۔ دوہا۔ دو مصرعوں کی نظم
74۔ غزل عربی زبان کا لفظ ۔ عورتوں کی باتیں
75۔ نثر کے معن۔ بکھرا ہوا
76۔ علامہ اقبال کی آخری نظم۔ حضرت انسان
مٹی کے برتن
سب سے زیادہ بیماریاں گلے ہوئے کھانے سے ہوتی ہیں،
گلے ہوئے کھانے اور پکے ہوئے کھانے میں فرق ھے،
(جس طرح ایک سیب پکا ہوا ہوتا ھے،
اور ایک گلا ہوا،
گلا ہوا سیب آپ آرام سے چمچ کے ساتھ بھی کھا سکتے ہیں،
اور اسے چبانا بھی نہیں پڑے گا)
*مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ھے،*
اس کے برعکس
سِلور،
سٹیل،
پریشر کُکر یا نان سٹِک میں کھانا گلتا ھے،
تو سب سے پہلے اپنے برتن بدلیں،
یقین جانیں!
جن لوگوں نے برتن بدل لیے،
*اُن کی زِندگی بدل جاۓ گی،*
*2- کُوکِنگ آئل*
کوکنگ آئل وہ استعمال کریں،
جو کبھی جَمے نہ،
دُنیا کا سب سے بہترین تیل جو جمتا نہیں،
وہ زیتون کا تیل ھے،
لیکن یہ مہنگا ھے،
*ہمارے جیسے غریب لوگوں کے لیے سرسوں کا تیل ھے،*
یہ بھی جمتا نہیں،
سرسوں کا تیل واحد تیل ھے،
جو ساری عُمر نہیں جمتا،
اور اگر جم جائے تو سرسوں نہیں ھے،
*ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات*
بھی اسی لیے کی جاتی ھے،
کیونکہ یہ ممکن نہیں ھے،
سرسوں کے تیل کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ اس کے اندر جس چیز کو بھی ڈال دیں گے،
اس کو جمنے نہیں دیتا،
*اس کی زِندہ مِثال اچار ھے*
جو اچار سرسوں کے تیل کے اندر رہتا ھے،
اس کو جالا نہیں لگتا،
اور *اِن شاءالله* جب یہ سرسوں کا تیل آپ کے جسم کے اندر جاۓ گا تو آپ کو کبھی بھی فالج،
مِرگی یا دل کا دورہ نہیں ہوگا،
أپ کے گُردے فیل نہیں ہونگے،
پوری زندگی آپ بلڈ پریشر سے محفوظ رہیں گے، (اِن شاء الله)
*کیونکہ؟*
سرسوں کا تیل نالیوں کو صاف کرتا ھے،
جب نالیاں صاف ہوجاٸیں گی تو دل کو زور نہیں لگانا پڑے گا،
سرسوں کے تیل کے فاٸدے ہی فاٸدے ہیں،
ہمارے دیہاتوں میں جب جانور بیمار ہوتے ہیں تو بزرگ کہتے ہیں کہ ان کو سرسوں کا تیل پلاٸیں،
أج ہم سب کو بھی سرسوں کے تیل کی ضرورت ھے،
*3- نمک (نمک بدلیں)*
*نمک ہوتا کیا ھے؟*
نمک اِنسان کا کِردار بناتا ھے،
*ہم کہتے ہیں بندہ بڑا نمک حلال ھے،*
یا پھر
*بندہ بڑا نمک حرام ھے،*
نمک انسان کے کردار کی تعمیر کرتا ھے،
ہمیں نمک وہ لینا چاہیٸے جو مٹی سے آیا ہو،
اور وہ نمک أج بھی پوری دنیا میں بہترین پاکستانی کھیوڑا کا گُلابی نمک ھے،
پِنک ہمالین نمک 25 ڈالر کا 90 گرام یعنی 4000 روپے کا نوے گرام اور چالیس ہزار روپے کا 900 گرام بِکتا ھے،
اور ہمارے یہاں دس تا بِیس روپے کلو ھے،
*بدقسمتی دیکھیں!*
ہم گھر میں آیوڈین مِلا نمک لاتے ہیں،
جس نمک نے ہمارا کردار بنانا تھا،
وہ ہم نے کھانا چھوڑ دیا۔
اس لٸے میری أپ سے گذارش ھے کہ ہمیشہ پتھر والا نمک استعمال کریں،
*4- مِیٹھا*
ہم سب کے دماغ کو چلانے کے لٸے میٹھا چاہیٸے،
اور میٹھا *الله کریم* نے مٹی میں رکھا ھے،
یعنی *گَنّا اور گُڑ،*
اور ہم نے گُڑ چھوڑ کر چِینی کھانا شروع کر دی،
خدارہ گُڑ استعمال کریں،
*5- پانی*
انسان کے لٸے سب سے ضروری چیز پانی ھے،
جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں،
پانی بھی ہمیں مٹی سے نِکلا ہُوا ہی پینا چاہیٸے،
پوری دنیا میں *آبِ زم زم* سب سے بہترین پانی ھے،
اور اس کے بعد پنچاب کا پانی ھے،
*اس کے بعد مٹی سے نکلنے والی گندم استعمال کریں،*
لیکن گندم کو کبھی بھی چھان کر استعمال نہ کریں،
گندم جس حالت میں آتی ھے،
اُسے ویسے ہی استعمال کریں،
یعنی سُوجی، میدہ اور چھان وغیرہ نکالے بغیر
کیونکہ!
ہمارے *آقا کریم حضرت محمدﷺ* بغیر چھانے أٹا کھاتے تھے،
تو پھر طے یہ ہوا کہ ہمیں یہ پانچ کام کرنے چاہٸیں،
*1- مٹی کے برتن،*
*2- سرسوں کا تیل،*
*3- گُڑ،*
*4- پتھر والا نمک،*
*5- زمین کے اندر والا پانی،*
زمین کے اندر والا پانی،
مٹی کے برتن میں رکھ کر،
مٹی کے گلاس میں پئیں،
اور ان ساری چیزوں کے ساتھ گندم کا آٹا،
*اب سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ہم یہ ساری چیزیں کیوں لیں؟*
یہ ساری چیزیں ہم نے اس لٸے لینی ہیں کہ اسی میں صحت ہے،
*اور الله پاک نے ہمیں مٹی سے پیدا کیا ھے،*
اور ہم نے واپس بھی مٹی میں ہی جانا ھے۔۔۔
Tuesday, September 15, 2020
Still v/s yet v/s already
:
1. Still - used to talk about something that hasn't finished especially when it was expected to finish earlier.
- used in questions, affirmative and negative sentences
He is still angry at his best friend.
Are you still smoking? I though you had quit.
2. Yet - used to talk about something which is expected to happen
- used in questions and negative sentences.
Have you written the report yet?
She hasn't finished her homework yet.
3. Already - used to talk about something that has happened, often earlier than expected.
- used in affirmative sentences and questions
I already know what I will buy you for your birthday.
Has he already left the party?
Friday, September 11, 2020
اردو کے عظیم شعرا کرام
*: اردو کے عظیم شعرا کرام*
*امیر خسرو 1253-1325*
*میرا بائ 1488-1560*
*قلی قطب شاہ 1565-1611*
*ولی محمد ولی 1667-1707*
*شاہ مبارک 1683-1733*
*مرزا خان جاناں 1699-1781*
*رفیع سودا 1713-1780*
*خواجہ میر درد 1721-85*
*میر تقی میر 1723-1810*
*جرات بخش 1748-1810*
*نظیر اکبر آبادی 1740-1830*
*غلام حمدانی مصحفی 1750-1824*
*انشا خان انشا 1756-1817*
*بہادر شاہ ظفر 1775-1862*
*خواجہ حیدر آتش 1778-1846*
*ابراہیم ذوق 1789-1854*
*اسداللہ خان غالب 1797-1869*
*مومن خان مومن 1801-52*
*سلامت دبیر 1803-75*
*بابر انیس 1803-74*
*امیر مینائی 1828-1900*
*داغ دہلوی 1831-1905*
*الطاف حسین حالی 1837-1914*
*اکبر الٰہ آبادی 1846-1921*
*شبلی نعمانی 1857-1914*
*ظفر علی خان 1873-1956*
*حسرت موہانی 1875-1951*
*شاہ جہاں پوری 1875-1959*
*علامہ اقبال 1877-1938*
*فانی بدایونی 1879-1941*
*جگر مراد آبادی 1890-1960*
*جوش ملیح آبادی 1894-1982*
*فراق گورکھپوری 1896-1982*
*حفیظ جالندھری 1900-1982*
*اختر شیرانی 1905-48*
*ن م راشد 1910-1975*
*فیض احمد فیض 1911-1984*
*ریئس امروہوی 1914-88*
*احسان دانش 1914-82*
*مجید امجد 1914-74*
*احمد ندیم قاسمی 1916-2006*
*ضمیر جعفری 1916-1999*
*شکیل بدایونی 1916-70*
*آغا شورش کاشمیری 1917-75*
*شان الحق حقی 1917-2005*
*جگن ناتھ آزاد 1918-2004*
*قتیل شفائی 1919-2001*
*وزیر آغا 1922-2010*
*ناصر کاظمی 1925-72*
*ابن انشاء 1927-78*
*حبیب جالب 1928-93*
*دلاور فگار 1928-98*
*منیر نیازی 1928-2006*
*احمد فراز 1931-2006*
*جون ایلیا 1931-2003*
*شکیب جلالی 1932-66*
*محسن بھوپالی 1932-2007*
*انور مسعود 1935*
*محمود شام 1940*
*کشور ناہید 1940*
*افتخار عارف 1943*
*امجد اسلام امجد 1944*
*ن م دانش 1958*
*زاہدہ حنا 1962*
*ادریس آزاد 1969*
*شاعروں اور ادیبوں کے اصل نام*
*قلمی نام............................ اصل نام*
آثم فردوسی *میاں عبدلحمید*
آرزو لکھنوی *سید انور حسین*
اختر شیرانی *محمد داود خان*
اختر کاشمیری *محمد طفیل*
اختر ہاشمی *محمد جلیل*
اختر وارثی *عبدالعزیز*
آئی آئی قاضی *امداد امام علی قاضی*
ابن انشاء *شیر محمد خان*
انشاء *سید انشاءاللہ خان*
اسلم راہی *محمد اسلم ملک*
افسر ماہ پوری *ظہیر عالم صدیقی*
تبسم کاشمیری *ڈاکٹر محمد صالحین*
انور سدید *محمد انورالدین*
انیس ناگی *یعقوب علی*
جاذب قریشی *محمد صابر*
پطرس بخاری *سید احمد شاہ*
تبسم رضوانی *حبیب اللہ*
تنویر بخاری *فقیر محمد*
ثاقب حزیں *محمد غلام مصطفیٰ*
ثمر جالندھری *محمد شریف*
جان کاشمیری *محمد نصیر*
بہزاد لکھنوی *سردار حسن خان*
جعفر بلوچ *غلام بلوچ*
جلیل قدوائی *جلیل احمد*
جمال پانی پتی *گلزار احمد*
جوش ملیح آبادی *شبیر حسن*
تابش دہلوی *مسعودالحسن*
حافظ امرتسری *محمد شریف*
حبیب جالب *حبیب احمد*
حفیظ جالندھری *ابوالاثر حفیظ*
خاطر غزنوی *محمد ابراہیم بیگ*
سہیل بخاری *محمود نقوی*
شاعر لکھنوی *حسین پاشا*
شکیب جلالی *حسن رضوی*
شوکت تھانوی *محمد عمر*
صبا اکبر آبادی *محمد امیر*
قتیل شفائی *اورنگزیب*
جمیل جالبی *محمد جمیل خان*
حافظ لدھیانوی *محمد منظور حسین*
رئیس امروہوی *سعید محمد مہدی*
حسن عسکری *محمد حسن*
ن م راشد *نذر محمد*
صہبا اختر *اختر علی رحمت*
قمر جلالوی *محمد حسین*
کوثر نیازی *محمد حیات*
محسن بھوپالی *عبدالرحمٰن*
محسن نقوی *غلام عباس*
محشر بدایونی *فاروق احمد*
نسیم حجازی *محمد شریف*
منو بھائی *منیر احمد*
ناسخ *شیخ امام بخش*
ذوق *محمد ابراہیم*
راسخ *شیخ غلام علی*
داغ *نواب مرزا خان*
دبیر *مرزا سلامت علی*
درد *سید خواجہ میر*
سرشار *پنڈت رتن ناتھ*
ساحر لدھیانوی *عبدالحئ*
سودا *مرزا محمد رفیع*
ماجد صدیقی *عاشق حسین*
ماہر القادری *منظور حسین*
مجنوں گورکھپوری *احمد صدیق*
مومن *حکیم مومن خان*
آتش *خواجہ حیدر علی*
آرزو *محمد حسین*
حسرت موہانی *فضل الحسن*
ابوالکلام آزاد *محی الدین*
اصغر گونڈوی *اصغر حسین*
افسوس *میر شیر علی*
فراق گورکھپوری *رگھو پتی سہائے*
فانی بدایونی *شوکت علی*
مصحفی *غلام ہمدانی*
میرا جی *ثناءاللہ ڈار*
حسن *میر غلام حسن*
میر *محمد تقی*
نظیر اکبرآبادی *شیخ محمد ولی*
نظم طباطبائی *سید حیدر علی*
ناصرکاظمی *ناصر رضا کاظمی*
مرزا غالب *اسداللہ خان*
نسیم *پنڈت دیا شنکرم*
یاس یگانہ چنگیزی *مرزاواجد حسین*
ولی دکنی *شمس الدین محمدولی*
محروم *تلوک چند*
امیر خسرو *ابوالحسن یمین الدین*
عمر خیام *غیاث الدین ابوالفتح*
اشرف صبوحی *ولی اشرف*
امانت لکھنوی *سید اکبر حسین*
امیر مینائی *امیر احمد*
انیس *میر ببر علی*
بےخود دہلوی *سیدوحیدالدین*
بےدل *مرزا عبدلقادر*
پریم چند *دھیت رائے*
تاباں *غلام ربانی*
جوش ملیسانی *پنڈت لبھو رام*
جرأت *یحیٰ امان*
جگر مرادآبادی *علی سکندر*
حالی *مولاناالطاف حسین*
چکبست *پنڈت برج نارائن*
امام غزالی *ابوحامدمحمدبن غزالی*
شیخ سعدی *مصلح الدین*
بلھے شاہ *سید عبداللہ*
سچل سرمست *عبدالوہاب*
Wednesday, September 9, 2020
اردو زبان کے چند اہم قوائد و تعریفات
*حمد* : نظم جس میں اللہ کی تعریف ہو
*نعت* : رسول اکرم ص کی تعریفی نظم
*قصیدہ/منقبت* : کسی بھی شخصیت کی توصیفی نظم
*مثنوی* :چھوٹی بحر کی نظم جسکے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہو۔
*مرثیہ* : موت پہ اظہارِ رنج کی شاعری کی نظم
*غزل* : عورتوں کی شاعری عشق، حسن و جمال و ہجر و فراق پہ شاعری
*نظم*: ایک ہی مضمون والی مربوط شاعری
*قطعہ*: بغیر مطلع کے دو یا دو سے ذیادہ اشعار جس میں ایک ہی مضمون کا تسلسل ہو
*رباعی*: چار مصرعوں کی نظم جسکا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوں۔
*مخمس*: وہ نظم جسکے بند پانچ پانچ مصرعوں کے ہوں
*مسدس*: وہ نظم جسکے ہر بند کے چھے مصرعے ہوں
*داستان*: کہانی کی قدیم قسم
*ناول*: مسلسل طویل قصہ جس کاموضوع انسانی زندگی ہو اور کردار متنوع ہوں
*افسانہ*: مختصر کہانی
*ڈرامہ* : کہانی جسکو اسٹیج پہ کرداروں کی مدد سے پیش کیا جائے
*انشائیہ*: ہلکا پھلکا مضمون جس میں زندگی کے کسی موضوع کو لکھا جائے
*خاکہ*: کسی شخصیت کی مختصر مگر جامع تصویر کشی
*مضمون*: کسی معین موضوع پہ خیالات و محسوسات
*آپ بیتی*: خود نوشت و سوانح عمری
*سفر نامہ*: سفری واقعات و مشاہدات
*مکتوب نگاری*: خط لکھنا
*سوانح عمری*: کسی عام یا خاص شخص کی حیات کا بیانیہ بتفصیل.......
*اسم نکرہ کا مفہوم*-
وہ اسم جو غیر معین شخص یا شے (اشخاص یا اشیا) کے معانی دے اسم نکرہ کہلاتا ہے ــ
یا
وہ اسم جو کسی عام جگہ، شخص یا کسی چیز کے لئے بولا جائے اسم نکرہ کہلاتا ہے اس اسم کو اسم عام بھی کہتے ہیں۔
*اسم نکرہ کی اقسام*
اسم ذات
اسم حاصل مصدر
اسم حالیہ
اسم فاعل
اسم مفعول
اسم استفہام
*اسم ذات* اُس اسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کی تمیزدوسری چیزوں سے کی جائے۔
یا
وہ اسم جس میں ایک چیز کی حقیقت یا اصلیت کو دوسری چیز سے الگ سمجھا جائے اسم ذات کہلاتا ہے۔
*اسم ذات کی مثالیں*
1۔ قلم، دوات 2۔ صبح، شام 3۔ ٹیلی فون، میز 4۔ پروانہ، شمع 5۔ بکری، گائے 6۔ پنسل، ربڑ 7۔ مسجد، کرسی 8۔ کتاب، کاغذ 9۔ گھڑی،دیوار 10۔ کمپیوٹر، ٹیلی ویژن وغیرہ
*اشعارکی مثالیں*
زندگی ہو میرے پروانہ کی صورت یارب علم کی شمع سے ہومجھ کو محبت یارب
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمریوں ہی تمام ہوتی ہے
*اسم ذات کی اقسام*
1۔ اسم تصغیر 2۔ اسم مکبر 3۔ اسم ظرف 4۔ اسم آلہ 5۔ اسم صوت
*1۔اسم تصغیر ( اسم مصغرکا مفہوم)*
وہ اسم جس میں کسی نام کی نسبت چھوٹائی کے معنی پائے جائیں اسم تصغیر یا اسم مصغر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں چھوٹا ہونے کے معنی پائے جائیں تصغیر کے معنی چھوٹا کے ہیں۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں کسی چیز کا چھوٹا ہونا ظاہرہو۔
*اسم تصغیریا اسم مصغرکی مثالیں*
گھر سے گھروندا، بھائی سے بھیا، دُکھ سے دُکھڑا، صندوق سے صندوقچہ، پنکھ سے پنکھڑی، دَر سے دَریچہ وغیرہ
*2۔اسم مکبر*
وہ اسم ہے جس میں کسی چیز نسبت بڑائی کے معنی پائے جائیں اسم مکبر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم مکبر* وہ اسم ہے جس میں بڑائی کے معنی پائے جائیں، کبیر کے معنی بڑا کے ہوتے ہیں۔
یا
*اسم مکبر* اس اسم کو کہتے ہیں جس میں بڑائی کے معنی ظاہر ہوں۔
*اسم مکبر کی مثالیں*
لاٹھی سے لٹھ، گھڑی سے گھڑیال، چھتری سے چھتر، راہ سے شاہراہ، بات سے بتنگڑ، زور سے شہ زور وغیرہ
*3۔اسم ظرف*
اسم ظرف اُس اسم کو کہتے ہیں جو جگہ یا وقت کے معنی دے۔
یا
ظرف کے معنی برتن یا سمائی کے ہوتے ہیں، اسم ظرف وہ اسم ہوتا ہے جو جگہ یا وقت کے معنی دیتا ہے۔
*اسم ظرف کی مثالیں*
باغ، مسجد، اسکول۔ صبح، شام، آج، کل وغیرہ
*اسم ظرف کی اقسام*
اسم ظرف کی دو اقسام ہیں
اسم ظرف زماں
اسم ظرف مکاں
*1۔اسم ظرف زماں*
اسم ظرف زماں وہ اسم ہوتا ہے جو کسی وقت (زمانے) کو ظاہر کرے
یا
ایسا اسم جو وقت یا زمانے کے معنی دے اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔
*اسم ظرف زماں مثالیں*
سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن، رات، صبح، شام، دوپہر، سہ پہر، ہفتہ، مہینہ، سال، صدی، آج، کل، پرسوں، ترسوں وغیرہ
*2-اسم ظرف مکاں*
اسم ظرف مکاں وہ اسم ہے جو جگہ یا مقام کے معنی دے۔
یا
وہ اسم جو کسی جگہ یا مقام کے لئے بولا جائے اُسے اسم ظرف مکاں کہتے ہیں۔
*اسم ظرف مکان کی مثالیں*
مسجد، مشرق، میدان، منڈی، سکول، زمین، آسمان، مدرسہ، وغیرہ
*4۔اسم آلہ*
اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو۔
یا
*اسم آلہ* وہ اسم ہے جو کسی آلہ یا ہتھیار کے لئے بولا جائے۔
یا
*اسم آلہ* اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو، آلہ کے معنی اوزار یا ہتھیار کے ہوتے ہیں۔
*اسم آلہ کی مثالیں*
گھڑی، تلوار، چُھری، خنجر، قلم، توپ، چھلنی وغیرہ
*5۔اسم صوت*
وہ اسم جو کسی انسان، حیوان یا بے جان کی آواز دے اسم صوت کہلاتا ہے۔
یا
*اسم صوت* وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے۔
یا
ایسا اسم جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے اسم صوت کہلاتا ہے، صوت کے معنی آواز کے ہوتے ہیں۔
*اسم صوت کی مثالیں*
کُٹ کُٹ مرغی کی آواز، چوں چوں چڑیا کی آواز، غٹرغوں کبوتر کی آواز، ککڑوں کوں مرغے کی آواز، کائیں کائیں کوے کی آواز وغیرہ
*2۔اسم حاصل مصدر*
ایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو اور جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو مصدرنہ ہو لیکن مصدر کے معنی دے حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں یعنی جو مصدر کی کیفیت کو ظاہر کرے اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
*اسم حاصل مصدر کی مثالیں*
مثلاً: چہکنا سے چہک، ملنا سے ملاب، پڑھنا سے پڑھائی، چمکنا سے چمک، گبھرانا سے گبھراہٹ، پکڑنا سے پکڑ، چمکنا سے چمک، سجانا سے سجاوٹ وغیرہ۔
*3۔اسم حالیہ*
اسم حالیہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی فائل یا مفعول کی حالت کو ظاہر کرے۔
*اسم حالیہ کی مثالیں*
ہنستا ہوا، ہنستے ہنستے، روتا ہوا روتے روتے، گاتا ہوا، ٹہلتا ہوا، مچلتا ہوا، دوڑتا ہوا،
*4۔اسم فائل*
ایسا اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کی جگہ استعمال ہو اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور مصدر سے بنے اسم فائل کہلاتا ہے۔
*اسم فاعل کی مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، دیکھنا سے دیکھنے والا، سننا سے سننے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، رونا سے رونے والا وغیرہ۔
*عربی کے اسم فاعل*
اُردو میں عربی کے اسم فاعل استعمال ہوتے ہیں، جو عربی کے وزن پر اتے ہیں۔
*مثالیں*
عالم (علم والا)، قاتل (قتل کرنے والا)، حاکم (حکم دینے والا) وغیرہ۔
*فارسی کے اسم فاعل کی مثالیں*
باغبان، ہوا باز، کاریگر، کارساز، پرہیز گار وغیرہ۔
*اسم فائل کی اقسام*
اسم فائل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں
اسم فاعل مفرد
اسم فائل مرکب
اسم فائل قیاسی
اسم فائل سماعی
*1۔ اسم فائل مفرد*
اسم فائل مفرد وہ اسم ہوتا ہے جو لفظِ واحد کی صورت میں ہو لیکن اُس کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوں۔
*مثالیں*
ڈاکو( ڈاکا ڈالنے والا)، ظالم (ظلم کرنے والا)، چور (چوری کرنے والا)، صابر (صبر کرنے والا)۔ رازق (رزق دینے والا) وغیرہ
*2۔ اسم فائل مرکب*
ایسا اسم جو ایک سے زیادہ الفاظ کے مجموعے پر مشتمل ہو اسے اسم فائل مرکب کہتے ہیں۔
*مثالیں*
جیب کترا، بازی گر، کاریگر، وغیرہ
*3۔ اسم فائل قیاسی*
ایسا اسم جو مصدر سے بنے اُسے اسم فائل قیاسی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا، آنا سے آنے والا، دوڑنا سے دوڑنے والا وغیرہ
*4۔ اسم فائل سماعی*
ایسا اسم فائل جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو، بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو، اُسے اسم فائل سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
شتربان، فیل بان، گویا، بھکاری، جادو گر، گھسیارا، پیغامبر، وغیرہ
*فاعل اور اسم فاعل میں فرق*
*1-فاعل*
فاعل ہمیشہ جامد اور کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہے
*مثالیں*
حامد نے اخبار پڑھا، عرفان نے خط لکھا امجد نے کھانا کھایا، اِن جملوں میں حامد، عرفان اورامجد فاعل ہیں۔
*2-اسم فاعل*
اسم فاعل ہمیشہ یا تو مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا یا پھر اس کے ساتھ کوئی فاعلی علامت پائی جاتی ہے۔ مثلا پہرا دار،باغبان، کارساز، وغیرہ
*5۔ اسم مفعول*
ایسا اسم جو اُس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو اسم مفعول کہلاتا ہے۔
یا
جو اسم کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف اشارہ کرے جس پر کوئی فعل یعنی کام واقع ہوا ہو اُسے اسم مفعول کہا جاتا ہے۔
*اسم مفعول کی مثالیں*
دیکھنا سے دیکھا ہوا، سونا سے سویا ہوا، رونا سے رویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، سُننا سے سُنا ہوا، وغیرہ۔
اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے، وقت پر بویا گیا بیج آخر پھل دیتا ہے، رکھی ہوئی چیز کام آجاتی ہے، اِن جملوں میں مظلوم، بویا ہوا، رکھی ہوئی اسم مفعول ہیں۔
*عربی کے اسم مفعول*
عربی میں جو الفاظ مفعول کے وزن پر آتے ہیں، اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
*مثالیں*
مظلوم، مقتول، مخلوق، مقروض، مدفون وغیرہ
اسم مفعول کی اقسام
اسم مفعول کی دو اقسام ہیں
اسم مفعول قیاسی
اسم مفعول سماعی
*1۔ اسم مفعول قیاسی*
ایسا اسم جو قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہو اسم مفعول قیاسی کہلاتا ہے۔
یا
ایسا اسم جو مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا جائے اُسے اسم مفعول قیاسی کہتے ہیں اور اِس اسم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد لفظ ”ہوا“ بڑھا لیتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھایا ہوا، سونا سے سویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، رکھنا سے رکھا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، وغیرہ
*2۔ اسم مفعول سماعی*
ایسا اسم جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنے بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو اُسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔ سماعی کے معنی سنا ہوا کے ہوتے ہیں۔
یا
ایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو بلکہ جس طرح اہلِ زبان سے سنا ہو اسی طرح استعمال ہو اسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
دِل جلا، دُم کٹا، بیاہتا، مظلوم، وغیرہ
*فارسی کے اسم مفعول سماعی*
دیدہ (دیکھا ہوا)، شنیدہ (سنا ہوا)، آموختہ (سیکھا ہوا) وغیرہ
عربی کے اسم مفعول سماعی
مفعول کے وزن پر، مقتول، مظلوم، مکتوب، محکوم، مخلوق وغیرہ
*مفعول اور اسم مفعول میں فرق*
*1-مفعول*
مفعول ہمیشہ جامد ہوتا ہے اور اُس چیز کا نام ہوتا ہے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو۔
*مثالیں*
عرفان نے اخبار پڑھا، فصیح نے خط لکھا، ثاقب نے کتاب پڑھی، اِن جملوں میں اخبار، خط اور کتاب مفعول ہیں۔
*2-اسم مفعول*
اسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
سونا سے سویا ہوا، کھانا سے کھایا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا وغیرہ،
*عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے*: مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ،
یا پھر
*فارسی مصدر سے بنتا ہے* جیسے شنیدن سے شنیدہ، آموختن سے آموختہ وغیرہ
*6۔ اسم استفہام*
اسم استفہام اُس اسم کو کہتے ہیں جس میں کچھ سوال کرنے یا معلوم کرنے کے معنی پائے جائیں۔
*اسم استفہام کی مثالیں*
کون، کب، کہاں کیسے، کیوں،*# اردو زبان کے چند اہم قوائد و تعریفات #*
*حمد* : نظم جس میں اللہ کی تعریف ہو
*نعت* : رسول اکرم ص کی تعریفی نظم
*قصیدہ/منقبت* : کسی بھی شخصیت کی توصیفی نظم
*مثنوی* :چھوٹی بحر کی نظم جسکے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہو۔
*مرثیہ* : موت پہ اظہارِ رنج کی شاعری کی نظم
*غزل* : عورتوں کی شاعری عشق، حسن و جمال و ہجر و فراق پہ شاعری
*نظم*: ایک ہی مضمون والی مربوط شاعری
*قطعہ*: بغیر مطلع کے دو یا دو سے ذیادہ اشعار جس میں ایک ہی مضمون کا تسلسل ہو
*رباعی*: چار مصرعوں کی نظم جسکا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوں۔
*مخمس*: وہ نظم جسکے بند پانچ پانچ مصرعوں کے ہوں
*مسدس*: وہ نظم جسکے ہر بند کے چھے مصرعے ہوں
*داستان*: کہانی کی قدیم قسم
*ناول*: مسلسل طویل قصہ جس کاموضوع انسانی زندگی ہو اور کردار متنوع ہوں
*افسانہ*: مختصر کہانی
*ڈرامہ* : کہانی جسکو اسٹیج پہ کرداروں کی مدد سے پیش کیا جائے
*انشائیہ*: ہلکا پھلکا مضمون جس میں زندگی کے کسی موضوع کو لکھا جائے
*خاکہ*: کسی شخصیت کی مختصر مگر جامع تصویر کشی
*مضمون*: کسی معین موضوع پہ خیالات و محسوسات
*آپ بیتی*: خود نوشت و سوانح عمری
*سفر نامہ*: سفری واقعات و مشاہدات
*مکتوب نگاری*: خط لکھنا
*سوانح عمری*: کسی عام یا خاص شخص کی حیات کا بیانیہ بتفصیل.......
*اسم نکرہ کا مفہوم*-
وہ اسم جو غیر معین شخص یا شے (اشخاص یا اشیا) کے معانی دے اسم نکرہ کہلاتا ہے ــ
یا
وہ اسم جو کسی عام جگہ، شخص یا کسی چیز کے لئے بولا جائے اسم نکرہ کہلاتا ہے اس اسم کو اسم عام بھی کہتے ہیں۔
*اسم نکرہ کی اقسام*
اسم ذات
اسم حاصل مصدر
اسم حالیہ
اسم فاعل
اسم مفعول
اسم استفہام
*اسم ذات* اُس اسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کی تمیزدوسری چیزوں سے کی جائے۔
یا
وہ اسم جس میں ایک چیز کی حقیقت یا اصلیت کو دوسری چیز سے الگ سمجھا جائے اسم ذات کہلاتا ہے۔
*اسم ذات کی مثالیں*
1۔ قلم، دوات 2۔ صبح، شام 3۔ ٹیلی فون، میز 4۔ پروانہ، شمع 5۔ بکری، گائے 6۔ پنسل، ربڑ 7۔ مسجد، کرسی 8۔ کتاب، کاغذ 9۔ گھڑی،دیوار 10۔ کمپیوٹر، ٹیلی ویژن وغیرہ
*اشعارکی مثالیں*
زندگی ہو میرے پروانہ کی صورت یارب علم کی شمع سے ہومجھ کو محبت یارب
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمریوں ہی تمام ہوتی ہے
*اسم ذات کی اقسام*
1۔ اسم تصغیر 2۔ اسم مکبر 3۔ اسم ظرف 4۔ اسم آلہ 5۔ اسم صوت
*1۔اسم تصغیر ( اسم مصغرکا مفہوم)*
وہ اسم جس میں کسی نام کی نسبت چھوٹائی کے معنی پائے جائیں اسم تصغیر یا اسم مصغر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں چھوٹا ہونے کے معنی پائے جائیں تصغیر کے معنی چھوٹا کے ہیں۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں کسی چیز کا چھوٹا ہونا ظاہرہو۔
*اسم تصغیریا اسم مصغرکی مثالیں*
گھر سے گھروندا، بھائی سے بھیا، دُکھ سے دُکھڑا، صندوق سے صندوقچہ، پنکھ سے پنکھڑی، دَر سے دَریچہ وغیرہ
*2۔اسم مکبر*
وہ اسم ہے جس میں کسی چیز نسبت بڑائی کے معنی پائے جائیں اسم مکبر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم مکبر* وہ اسم ہے جس میں بڑائی کے معنی پائے جائیں، کبیر کے معنی بڑا کے ہوتے ہیں۔
یا
*اسم مکبر* اس اسم کو کہتے ہیں جس میں بڑائی کے معنی ظاہر ہوں۔
*اسم مکبر کی مثالیں*
لاٹھی سے لٹھ، گھڑی سے گھڑیال، چھتری سے چھتر، راہ سے شاہراہ، بات سے بتنگڑ، زور سے شہ زور وغیرہ
*3۔اسم ظرف*
اسم ظرف اُس اسم کو کہتے ہیں جو جگہ یا وقت کے معنی دے۔
یا
ظرف کے معنی برتن یا سمائی کے ہوتے ہیں، اسم ظرف وہ اسم ہوتا ہے جو جگہ یا وقت کے معنی دیتا ہے۔
*اسم ظرف کی مثالیں*
باغ، مسجد، اسکول۔ صبح، شام، آج، کل وغیرہ
*اسم ظرف کی اقسام*
اسم ظرف کی دو اقسام ہیں
اسم ظرف زماں
اسم ظرف مکاں
*1۔اسم ظرف زماں*
اسم ظرف زماں وہ اسم ہوتا ہے جو کسی وقت (زمانے) کو ظاہر کرے
یا
ایسا اسم جو وقت یا زمانے کے معنی دے اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔
*اسم ظرف زماں مثالیں*
سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن، رات، صبح، شام، دوپہر، سہ پہر، ہفتہ، مہینہ، سال، صدی، آج، کل، پرسوں، ترسوں وغیرہ
*2-اسم ظرف مکاں*
اسم ظرف مکاں وہ اسم ہے جو جگہ یا مقام کے معنی دے۔
یا
وہ اسم جو کسی جگہ یا مقام کے لئے بولا جائے اُسے اسم ظرف مکاں کہتے ہیں۔
*اسم ظرف مکان کی مثالیں*
مسجد، مشرق، میدان، منڈی، سکول، زمین، آسمان، مدرسہ، وغیرہ
*4۔اسم آلہ*
اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو۔
یا
*اسم آلہ* وہ اسم ہے جو کسی آلہ یا ہتھیار کے لئے بولا جائے۔
یا
*اسم آلہ* اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو، آلہ کے معنی اوزار یا ہتھیار کے ہوتے ہیں۔
*اسم آلہ کی مثالیں*
گھڑی، تلوار، چُھری، خنجر، قلم، توپ، چھلنی وغیرہ
*5۔اسم صوت*
وہ اسم جو کسی انسان، حیوان یا بے جان کی آواز دے اسم صوت کہلاتا ہے۔
یا
*اسم صوت* وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے۔
یا
ایسا اسم جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے اسم صوت کہلاتا ہے، صوت کے معنی آواز کے ہوتے ہیں۔
*اسم صوت کی مثالیں*
کُٹ کُٹ مرغی کی آواز، چوں چوں چڑیا کی آواز، غٹرغوں کبوتر کی آواز، ککڑوں کوں مرغے کی آواز، کائیں کائیں کوے کی آواز وغیرہ
*2۔اسم حاصل مصدر*
ایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو اور جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو مصدرنہ ہو لیکن مصدر کے معنی دے حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں یعنی جو مصدر کی کیفیت کو ظاہر کرے اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
*اسم حاصل مصدر کی مثالیں*
مثلاً: چہکنا سے چہک، ملنا سے ملاب، پڑھنا سے پڑھائی، چمکنا سے چمک، گبھرانا سے گبھراہٹ، پکڑنا سے پکڑ، چمکنا سے چمک، سجانا سے سجاوٹ وغیرہ۔
*3۔اسم حالیہ*
اسم حالیہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی فائل یا مفعول کی حالت کو ظاہر کرے۔
*اسم حالیہ کی مثالیں*
ہنستا ہوا، ہنستے ہنستے، روتا ہوا روتے روتے، گاتا ہوا، ٹہلتا ہوا، مچلتا ہوا، دوڑتا ہوا،
*4۔اسم فائل*
ایسا اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کی جگہ استعمال ہو اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور مصدر سے بنے اسم فائل کہلاتا ہے۔
*اسم فاعل کی مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، دیکھنا سے دیکھنے والا، سننا سے سننے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، رونا سے رونے والا وغیرہ۔
*عربی کے اسم فاعل*
اُردو میں عربی کے اسم فاعل استعمال ہوتے ہیں، جو عربی کے وزن پر اتے ہیں۔
*مثالیں*
عالم (علم والا)، قاتل (قتل کرنے والا)، حاکم (حکم دینے والا) وغیرہ۔
*فارسی کے اسم فاعل کی مثالیں*
باغبان، ہوا باز، کاریگر، کارساز، پرہیز گار وغیرہ۔
*اسم فائل کی اقسام*
اسم فائل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں
اسم فاعل مفرد
اسم فائل مرکب
اسم فائل قیاسی
اسم فائل سماعی
*1۔ اسم فائل مفرد*
اسم فائل مفرد وہ اسم ہوتا ہے جو لفظِ واحد کی صورت میں ہو لیکن اُس کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوں۔
*مثالیں*
ڈاکو( ڈاکا ڈالنے والا)، ظالم (ظلم کرنے والا)، چور (چوری کرنے والا)، صابر (صبر کرنے والا)۔ رازق (رزق دینے والا) وغیرہ
*2۔ اسم فائل مرکب*
ایسا اسم جو ایک سے زیادہ الفاظ کے مجموعے پر مشتمل ہو اسے اسم فائل مرکب کہتے ہیں۔
*مثالیں*
جیب کترا، بازی گر، کاریگر، وغیرہ
*3۔ اسم فائل قیاسی*
ایسا اسم جو مصدر سے بنے اُسے اسم فائل قیاسی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا، آنا سے آنے والا، دوڑنا سے دوڑنے والا وغیرہ
*4۔ اسم فائل سماعی*
ایسا اسم فائل جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو، بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو، اُسے اسم فائل سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
شتربان، فیل بان، گویا، بھکاری، جادو گر، گھسیارا، پیغامبر، وغیرہ
*فاعل اور اسم فاعل میں فرق*
*1-فاعل*
فاعل ہمیشہ جامد اور کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہے
*مثالیں*
حامد نے اخبار پڑھا، عرفان نے خط لکھا امجد نے کھانا کھایا، اِن جملوں میں حامد، عرفان اورامجد فاعل ہیں۔
*2-اسم فاعل*
اسم فاعل ہمیشہ یا تو مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا یا پھر اس کے ساتھ کوئی فاعلی علامت پائی جاتی ہے۔ مثلا پہرا دار،باغبان، کارساز، وغیرہ
*5۔ اسم مفعول*
ایسا اسم جو اُس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو اسم مفعول کہلاتا ہے۔
یا
جو اسم کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف اشارہ کرے جس پر کوئی فعل یعنی کام واقع ہوا ہو اُسے اسم مفعول کہا جاتا ہے۔
*اسم مفعول کی مثالیں*
دیکھنا سے دیکھا ہوا، سونا سے سویا ہوا، رونا سے رویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، سُننا سے سُنا ہوا، وغیرہ۔
اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے، وقت پر بویا گیا بیج آخر پھل دیتا ہے، رکھی ہوئی چیز کام آجاتی ہے، اِن جملوں میں مظلوم، بویا ہوا، رکھی ہوئی اسم مفعول ہیں۔
*عربی کے اسم مفعول*
عربی میں جو الفاظ مفعول کے وزن پر آتے ہیں، اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
*مثالیں*
مظلوم، مقتول، مخلوق، مقروض، مدفون وغیرہ
اسم مفعول کی اقسام
اسم مفعول کی دو اقسام ہیں
اسم مفعول قیاسی
اسم مفعول سماعی
*1۔ اسم مفعول قیاسی*
ایسا اسم جو قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہو اسم مفعول قیاسی کہلاتا ہے۔
یا
ایسا اسم جو مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا جائے اُسے اسم مفعول قیاسی کہتے ہیں اور اِس اسم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد لفظ ”ہوا“ بڑھا لیتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھایا ہوا، سونا سے سویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، رکھنا سے رکھا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، وغیرہ
*2۔ اسم مفعول سماعی*
ایسا اسم جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنے بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو اُسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔ سماعی کے معنی سنا ہوا کے ہوتے ہیں۔
یا
ایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو بلکہ جس طرح اہلِ زبان سے سنا ہو اسی طرح استعمال ہو اسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
دِل جلا، دُم کٹا، بیاہتا، مظلوم، وغیرہ
*فارسی کے اسم مفعول سماعی*
دیدہ (دیکھا ہوا)، شنیدہ (سنا ہوا)، آموختہ (سیکھا ہوا) وغیرہ
عربی کے اسم مفعول سماعی
مفعول کے وزن پر، مقتول، مظلوم، مکتوب، محکوم، مخلوق وغیرہ
*مفعول اور اسم مفعول میں فرق*
*1-مفعول*
مفعول ہمیشہ جامد ہوتا ہے اور اُس چیز کا نام ہوتا ہے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو۔
*مثالیں*
عرفان نے اخبار پڑھا، فصیح نے خط لکھا، ثاقب نے کتاب پڑھی، اِن جملوں میں اخبار، خط اور کتاب مفعول ہیں۔
*2-اسم مفعول*
اسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
سونا سے سویا ہوا، کھانا سے کھایا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا وغیرہ،
*عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے*: مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ،
یا پھر
*فارسی مصدر سے بنتا ہے* جیسے شنیدن سے شنیدہ، آموختن سے آموختہ وغیرہ
*6۔ اسم استفہام*
اسم استفہام اُس اسم کو کہتے ہیں جس میں کچھ سوال کرنے یا معلوم کرنے کے معنی پائے جائیں۔
*اسم استفہام کی مثالیں*
کون، کب، کہاں کیس*# اردو زبان کے چند اہم قوائد و تعریفات #*
*حمد* : نظم جس میں اللہ کی تعریف ہو
*نعت* : رسول اکرم ص کی تعریفی نظم
*قصیدہ/منقبت* : کسی بھی شخصیت کی توصیفی نظم
*مثنوی* :چھوٹی بحر کی نظم جسکے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہو۔
*مرثیہ* : موت پہ اظہارِ رنج کی شاعری کی نظم
*غزل* : عورتوں کی شاعری عشق، حسن و جمال و ہجر و فراق پہ شاعری
*نظم*: ایک ہی مضمون والی مربوط شاعری
*قطعہ*: بغیر مطلع کے دو یا دو سے ذیادہ اشعار جس میں ایک ہی مضمون کا تسلسل ہو
*رباعی*: چار مصرعوں کی نظم جسکا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوں۔
*مخمس*: وہ نظم جسکے بند پانچ پانچ مصرعوں کے ہوں
*مسدس*: وہ نظم جسکے ہر بند کے چھے مصرعے ہوں
*داستان*: کہانی کی قدیم قسم
*ناول*: مسلسل طویل قصہ جس کاموضوع انسانی زندگی ہو اور کردار متنوع ہوں
*افسانہ*: مختصر کہانی
*ڈرامہ* : کہانی جسکو اسٹیج پہ کرداروں کی مدد سے پیش کیا جائے
*انشائیہ*: ہلکا پھلکا مضمون جس میں زندگی کے کسی موضوع کو لکھا جائے
*خاکہ*: کسی شخصیت کی مختصر مگر جامع تصویر کشی
*مضمون*: کسی معین موضوع پہ خیالات و محسوسات
*آپ بیتی*: خود نوشت و سوانح عمری
*سفر نامہ*: سفری واقعات و مشاہدات
*مکتوب نگاری*: خط لکھنا
*سوانح عمری*: کسی عام یا خاص شخص کی حیات کا بیانیہ بتفصیل.......
*اسم نکرہ کا مفہوم*-
وہ اسم جو غیر معین شخص یا شے (اشخاص یا اشیا) کے معانی دے اسم نکرہ کہلاتا ہے ــ
یا
وہ اسم جو کسی عام جگہ، شخص یا کسی چیز کے لئے بولا جائے اسم نکرہ کہلاتا ہے اس اسم کو اسم عام بھی کہتے ہیں۔
*اسم نکرہ کی اقسام*
اسم ذات
اسم حاصل مصدر
اسم حالیہ
اسم فاعل
اسم مفعول
اسم استفہام
*اسم ذات* اُس اسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کی تمیزدوسری چیزوں سے کی جائے۔
یا
وہ اسم جس میں ایک چیز کی حقیقت یا اصلیت کو دوسری چیز سے الگ سمجھا جائے اسم ذات کہلاتا ہے۔
*اسم ذات کی مثالیں*
1۔ قلم، دوات 2۔ صبح، شام 3۔ ٹیلی فون، میز 4۔ پروانہ، شمع 5۔ بکری، گائے 6۔ پنسل، ربڑ 7۔ مسجد، کرسی 8۔ کتاب، کاغذ 9۔ گھڑی،دیوار 10۔ کمپیوٹر، ٹیلی ویژن وغیرہ
*اشعارکی مثالیں*
زندگی ہو میرے پروانہ کی صورت یارب علم کی شمع سے ہومجھ کو محبت یارب
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمریوں ہی تمام ہوتی ہے
*اسم ذات کی اقسام*
1۔ اسم تصغیر 2۔ اسم مکبر 3۔ اسم ظرف 4۔ اسم آلہ 5۔ اسم صوت
*1۔اسم تصغیر ( اسم مصغرکا مفہوم)*
وہ اسم جس میں کسی نام کی نسبت چھوٹائی کے معنی پائے جائیں اسم تصغیر یا اسم مصغر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں چھوٹا ہونے کے معنی پائے جائیں تصغیر کے معنی چھوٹا کے ہیں۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں کسی چیز کا چھوٹا ہونا ظاہرہو۔
*اسم تصغیریا اسم مصغرکی مثالیں*
گھر سے گھروندا، بھائی سے بھیا، دُکھ سے دُکھڑا، صندوق سے صندوقچہ، پنکھ سے پنکھڑی، دَر سے دَریچہ وغیرہ
*2۔اسم مکبر*
وہ اسم ہے جس میں کسی چیز نسبت بڑائی کے معنی پائے جائیں اسم مکبر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم مکبر* وہ اسم ہے جس میں بڑائی کے معنی پائے جائیں، کبیر کے معنی بڑا کے ہوتے ہیں۔
یا
*اسم مکبر* اس اسم کو کہتے ہیں جس میں بڑائی کے معنی ظاہر ہوں۔
*اسم مکبر کی مثالیں*
لاٹھی سے لٹھ، گھڑی سے گھڑیال، چھتری سے چھتر، راہ سے شاہراہ، بات سے بتنگڑ، زور سے شہ زور وغیرہ
*3۔اسم ظرف*
اسم ظرف اُس اسم کو کہتے ہیں جو جگہ یا وقت کے معنی دے۔
یا
ظرف کے معنی برتن یا سمائی کے ہوتے ہیں، اسم ظرف وہ اسم ہوتا ہے جو جگہ یا وقت کے معنی دیتا ہے۔
*اسم ظرف کی مثالیں*
باغ، مسجد، اسکول۔ صبح، شام، آج، کل وغیرہ
*اسم ظرف کی اقسام*
اسم ظرف کی دو اقسام ہیں
اسم ظرف زماں
اسم ظرف مکاں
*1۔اسم ظرف زماں*
اسم ظرف زماں وہ اسم ہوتا ہے جو کسی وقت (زمانے) کو ظاہر کرے
یا
ایسا اسم جو وقت یا زمانے کے معنی دے اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔
*اسم ظرف زماں مثالیں*
سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن، رات، صبح، شام، دوپہر، سہ پہر، ہفتہ، مہینہ، سال، صدی، آج، کل، پرسوں، ترسوں وغیرہ
*2-اسم ظرف مکاں*
اسم ظرف مکاں وہ اسم ہے جو جگہ یا مقام کے معنی دے۔
یا
وہ اسم جو کسی جگہ یا مقام کے لئے بولا جائے اُسے اسم ظرف مکاں کہتے ہیں۔
*اسم ظرف مکان کی مثالیں*
مسجد، مشرق، میدان، منڈی، سکول، زمین، آسمان، مدرسہ، وغیرہ
*4۔اسم آلہ*
اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو۔
یا
*اسم آلہ* وہ اسم ہے جو کسی آلہ یا ہتھیار کے لئے بولا جائے۔
یا
*اسم آلہ* اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو، آلہ کے معنی اوزار یا ہتھیار کے ہوتے ہیں۔
*اسم آلہ کی مثالیں*
گھڑی، تلوار، چُھری، خنجر، قلم، توپ، چھلنی وغیرہ
*5۔اسم صوت*
وہ اسم جو کسی انسان، حیوان یا بے جان کی آواز دے اسم صوت کہلاتا ہے۔
یا
*اسم صوت* وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے۔
یا
ایسا اسم جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے اسم صوت کہلاتا ہے، صوت کے معنی آواز کے ہوتے ہیں۔
*اسم صوت کی مثالیں*
کُٹ کُٹ مرغی کی آواز، چوں چوں چڑیا کی آواز، غٹرغوں کبوتر کی آواز، ککڑوں کوں مرغے کی آواز، کائیں کائیں کوے کی آواز وغیرہ
*2۔اسم حاصل مصدر*
ایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو اور جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو مصدرنہ ہو لیکن مصدر کے معنی دے حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں یعنی جو مصدر کی کیفیت کو ظاہر کرے اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
*اسم حاصل مصدر کی مثالیں*
مثلاً: چہکنا سے چہک، ملنا سے ملاب، پڑھنا سے پڑھائی، چمکنا سے چمک، گبھرانا سے گبھراہٹ، پکڑنا سے پکڑ، چمکنا سے چمک، سجانا سے سجاوٹ وغیرہ۔
*3۔اسم حالیہ*
اسم حالیہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی فائل یا مفعول کی حالت کو ظاہر کرے۔
*اسم حالیہ کی مثالیں*
ہنستا ہوا، ہنستے ہنستے، روتا ہوا روتے روتے، گاتا ہوا، ٹہلتا ہوا، مچلتا ہوا، دوڑتا ہوا،
*4۔اسم فائل*
ایسا اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کی جگہ استعمال ہو اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور مصدر سے بنے اسم فائل کہلاتا ہے۔
*اسم فاعل کی مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، دیکھنا سے دیکھنے والا، سننا سے سننے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، رونا سے رونے والا وغیرہ۔
*عربی کے اسم فاعل*
اُردو میں عربی کے اسم فاعل استعمال ہوتے ہیں، جو عربی کے وزن پر اتے ہیں۔
*مثالیں*
عالم (علم والا)، قاتل (قتل کرنے والا)، حاکم (حکم دینے والا) وغیرہ۔
*فارسی کے اسم فاعل کی مثالیں*
باغبان، ہوا باز، کاریگر، کارساز، پرہیز گار وغیرہ۔
*اسم فائل کی اقسام*
اسم فائل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں
اسم فاعل مفرد
اسم فائل مرکب
اسم فائل قیاسی
اسم فائل سماعی
*1۔ اسم فائل مفرد*
اسم فائل مفرد وہ اسم ہوتا ہے جو لفظِ واحد کی صورت میں ہو لیکن اُس کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوں۔
*مثالیں*
ڈاکو( ڈاکا ڈالنے والا)، ظالم (ظلم کرنے والا)، چور (چوری کرنے والا)، صابر (صبر کرنے والا)۔ رازق (رزق دینے والا) وغیرہ
*2۔ اسم فائل مرکب*
ایسا اسم جو ایک سے زیادہ الفاظ کے مجموعے پر مشتمل ہو اسے اسم فائل مرکب کہتے ہیں۔
*مثالیں*
جیب کترا، بازی گر، کاریگر، وغیرہ
*3۔ اسم فائل قیاسی*
ایسا اسم جو مصدر سے بنے اُسے اسم فائل قیاسی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا، آنا سے آنے والا، دوڑنا سے دوڑنے والا وغیرہ
*4۔ اسم فائل سماعی*
ایسا اسم فائل جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو، بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو، اُسے اسم فائل سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
شتربان، فیل بان، گویا، بھکاری، جادو گر، گھسیارا، پیغامبر، وغیرہ
*فاعل اور اسم فاعل میں فرق*
*1-فاعل*
فاعل ہمیشہ جامد اور کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہے
*مثالیں*
حامد نے اخبار پڑھا، عرفان نے خط لکھا امجد نے کھانا کھایا، اِن جملوں میں حامد، عرفان اورامجد فاعل ہیں۔
*2-اسم فاعل*
اسم فاعل ہمیشہ یا تو مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا یا پھر اس کے ساتھ کوئی فاعلی علامت پائی جاتی ہے۔ مثلا پہرا دار،باغبان، کارساز، وغیرہ
*5۔ اسم مفعول*
ایسا اسم جو اُس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو اسم مفعول کہلاتا ہے۔
یا
جو اسم کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف اشارہ کرے جس پر کوئی فعل یعنی کام واقع ہوا ہو اُسے اسم مفعول کہا جاتا ہے۔
*اسم مفعول کی مثالیں*
دیکھنا سے دیکھا ہوا، سونا سے سویا ہوا، رونا سے رویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، سُننا سے سُنا ہوا، وغیرہ۔
اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے، وقت پر بویا گیا بیج آخر پھل دیتا ہے، رکھی ہوئی چیز کام آجاتی ہے، اِن جملوں میں مظلوم، بویا ہوا، رکھی ہوئی اسم مفعول ہیں۔
*عربی کے اسم مفعول*
عربی میں جو الفاظ مفعول کے وزن پر آتے ہیں، اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
*مثالیں*
مظلوم، مقتول، مخلوق، مقروض، مدفون وغیرہ
اسم مفعول کی اقسام
اسم مفعول کی دو اقسام ہیں
اسم مفعول قیاسی
اسم مفعول سماعی
*1۔ اسم مفعول قیاسی*
ایسا اسم جو قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہو اسم مفعول قیاسی کہلاتا ہے۔
یا
ایسا اسم جو مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا جائے اُسے اسم مفعول قیاسی کہتے ہیں اور اِس اسم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد لفظ ”ہوا“ بڑھا لیتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھایا ہوا، سونا سے سویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، رکھنا سے رکھا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، وغیرہ
*2۔ اسم مفعول سماعی*
ایسا اسم جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنے بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو اُسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔ سماعی کے معنی سنا ہوا کے ہوتے ہیں۔
یا
ایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو بلکہ جس طرح اہلِ زبان سے سنا ہو اسی طرح استعمال ہو اسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
دِل جلا، دُم کٹا، بیاہتا، مظلوم، وغیرہ
*فارسی کے اسم مفعول سماعی*
دیدہ (دیکھا ہوا)، شنیدہ (سنا ہوا)، آموختہ (سیکھا ہوا) وغیرہ
عربی کے اسم مفعول سماعی
مفعول کے وزن پر، مقتول، مظلوم، مکتوب، محکوم، مخلوق وغیرہ
*مفعول اور اسم مفعول میں فرق*
*1-مفعول*
مفعول ہمیشہ جامد ہوتا ہے اور اُس چیز کا نام ہوتا ہے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو۔
*مثالیں*
عرفان نے اخبار پڑھا، فصیح نے خط لکھا، ثاقب نے کتاب پڑھی، اِن جملوں میں اخبار، خط اور کتاب مفعول ہیں۔
*2-اسم مفعول*
اسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
سونا سے سویا ہوا، کھانا سے کھایا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا وغیرہ،
*عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے*: مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ،
یا پھر
*فارسی مصدر سے بنتا ہے* جیسے شنیدن سے شنیدہ، آموختن سے آموختہ وغیرہ
*6۔ اسم استفہام*
اسم استفہام اُس اسم کو کہتے ہیں جس میں کچھ سوال کرنے یا معلوم کرنے کے معنی پائے جائیں۔
*اسم استفہام کی مثالیں*
کون، کب، کہاں کیسے، کیوں،*# اردو زبان کے چند اہم قوائد و تعریفات #*
*حمد* : نظم جس میں اللہ کی تعریف ہو
*نعت* : رسول اکرم ص کی تعریفی نظم
*قصیدہ/منقبت* : کسی بھی شخصیت کی توصیفی نظم
*مثنوی* :چھوٹی بحر کی نظم جسکے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہو۔
*مرثیہ* : موت پہ اظہارِ رنج کی شاعری کی نظم
*غزل* : عورتوں کی شاعری عشق، حسن و جمال و ہجر و فراق پہ شاعری
*نظم*: ایک ہی مضمون والی مربوط شاعری
*قطعہ*: بغیر مطلع کے دو یا دو سے ذیادہ اشعار جس میں ایک ہی مضمون کا تسلسل ہو
*رباعی*: چار مصرعوں کی نظم جسکا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوں۔
*مخمس*: وہ نظم جسکے بند پانچ پانچ مصرعوں کے ہوں
*مسدس*: وہ نظم جسکے ہر بند کے چھے مصرعے ہوں
*داستان*: کہانی کی قدیم قسم
*ناول*: مسلسل طویل قصہ جس کاموضوع انسانی زندگی ہو اور کردار متنوع ہوں
*افسانہ*: مختصر کہانی
*ڈرامہ* : کہانی جسکو اسٹیج پہ کرداروں کی مدد سے پیش کیا جائے
*انشائیہ*: ہلکا پھلکا مضمون جس میں زندگی کے کسی موضوع کو لکھا جائے
*خاکہ*: کسی شخصیت کی مختصر مگر جامع تصویر کشی
*مضمون*: کسی معین موضوع پہ خیالات و محسوسات
*آپ بیتی*: خود نوشت و سوانح عمری
*سفر نامہ*: سفری واقعات و مشاہدات
*مکتوب نگاری*: خط لکھنا
*سوانح عمری*: کسی عام یا خاص شخص کی حیات کا بیانیہ بتفصیل.......
*اسم نکرہ کا مفہوم*-
وہ اسم جو غیر معین شخص یا شے (اشخاص یا اشیا) کے معانی دے اسم نکرہ کہلاتا ہے ــ
یا
وہ اسم جو کسی عام جگہ، شخص یا کسی چیز کے لئے بولا جائے اسم نکرہ کہلاتا ہے اس اسم کو اسم عام بھی کہتے ہیں۔
*اسم نکرہ کی اقسام*
اسم ذات
اسم حاصل مصدر
اسم حالیہ
اسم فاعل
اسم مفعول
اسم استفہام
*اسم ذات* اُس اسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کی تمیزدوسری چیزوں سے کی جائے۔
یا
وہ اسم جس میں ایک چیز کی حقیقت یا اصلیت کو دوسری چیز سے الگ سمجھا جائے اسم ذات کہلاتا ہے۔
*اسم ذات کی مثالیں*
1۔ قلم، دوات 2۔ صبح، شام 3۔ ٹیلی فون، میز 4۔ پروانہ، شمع 5۔ بکری، گائے 6۔ پنسل، ربڑ 7۔ مسجد، کرسی 8۔ کتاب، کاغذ 9۔ گھڑی،دیوار 10۔ کمپیوٹر، ٹیلی ویژن وغیرہ
*اشعارکی مثالیں*
زندگی ہو میرے پروانہ کی صورت یارب علم کی شمع سے ہومجھ کو محبت یارب
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمریوں ہی تمام ہوتی ہے
*اسم ذات کی اقسام*
1۔ اسم تصغیر 2۔ اسم مکبر 3۔ اسم ظرف 4۔ اسم آلہ 5۔ اسم صوت
*1۔اسم تصغیر ( اسم مصغرکا مفہوم)*
وہ اسم جس میں کسی نام کی نسبت چھوٹائی کے معنی پائے جائیں اسم تصغیر یا اسم مصغر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں چھوٹا ہونے کے معنی پائے جائیں تصغیر کے معنی چھوٹا کے ہیں۔
یا
*اسم تصغیر* وہ اسم ہے جس میں کسی چیز کا چھوٹا ہونا ظاہرہو۔
*اسم تصغیریا اسم مصغرکی مثالیں*
گھر سے گھروندا، بھائی سے بھیا، دُکھ سے دُکھڑا، صندوق سے صندوقچہ، پنکھ سے پنکھڑی، دَر سے دَریچہ وغیرہ
*2۔اسم مکبر*
وہ اسم ہے جس میں کسی چیز نسبت بڑائی کے معنی پائے جائیں اسم مکبر کہلاتا ہے۔
یا
*اسم مکبر* وہ اسم ہے جس میں بڑائی کے معنی پائے جائیں، کبیر کے معنی بڑا کے ہوتے ہیں۔
یا
*اسم مکبر* اس اسم کو کہتے ہیں جس میں بڑائی کے معنی ظاہر ہوں۔
*اسم مکبر کی مثالیں*
لاٹھی سے لٹھ، گھڑی سے گھڑیال، چھتری سے چھتر، راہ سے شاہراہ، بات سے بتنگڑ، زور سے شہ زور وغیرہ
*3۔اسم ظرف*
اسم ظرف اُس اسم کو کہتے ہیں جو جگہ یا وقت کے معنی دے۔
یا
ظرف کے معنی برتن یا سمائی کے ہوتے ہیں، اسم ظرف وہ اسم ہوتا ہے جو جگہ یا وقت کے معنی دیتا ہے۔
*اسم ظرف کی مثالیں*
باغ، مسجد، اسکول۔ صبح، شام، آج، کل وغیرہ
*اسم ظرف کی اقسام*
اسم ظرف کی دو اقسام ہیں
اسم ظرف زماں
اسم ظرف مکاں
*1۔اسم ظرف زماں*
اسم ظرف زماں وہ اسم ہوتا ہے جو کسی وقت (زمانے) کو ظاہر کرے
یا
ایسا اسم جو وقت یا زمانے کے معنی دے اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔
*اسم ظرف زماں مثالیں*
سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن، رات، صبح، شام، دوپہر، سہ پہر، ہفتہ، مہینہ، سال، صدی، آج، کل، پرسوں، ترسوں وغیرہ
*2-اسم ظرف مکاں*
اسم ظرف مکاں وہ اسم ہے جو جگہ یا مقام کے معنی دے۔
یا
وہ اسم جو کسی جگہ یا مقام کے لئے بولا جائے اُسے اسم ظرف مکاں کہتے ہیں۔
*اسم ظرف مکان کی مثالیں*
مسجد، مشرق، میدان، منڈی، سکول، زمین، آسمان، مدرسہ، وغیرہ
*4۔اسم آلہ*
اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو۔
یا
*اسم آلہ* وہ اسم ہے جو کسی آلہ یا ہتھیار کے لئے بولا جائے۔
یا
*اسم آلہ* اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو، آلہ کے معنی اوزار یا ہتھیار کے ہوتے ہیں۔
*اسم آلہ کی مثالیں*
گھڑی، تلوار، چُھری، خنجر، قلم، توپ، چھلنی وغیرہ
*5۔اسم صوت*
وہ اسم جو کسی انسان، حیوان یا بے جان کی آواز دے اسم صوت کہلاتا ہے۔
یا
*اسم صوت* وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے۔
یا
ایسا اسم جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے اسم صوت کہلاتا ہے، صوت کے معنی آواز کے ہوتے ہیں۔
*اسم صوت کی مثالیں*
کُٹ کُٹ مرغی کی آواز، چوں چوں چڑیا کی آواز، غٹرغوں کبوتر کی آواز، ککڑوں کوں مرغے کی آواز، کائیں کائیں کوے کی آواز وغیرہ
*2۔اسم حاصل مصدر*
ایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو اور جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو مصدرنہ ہو لیکن مصدر کے معنی دے حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں یعنی جو مصدر کی کیفیت کو ظاہر کرے اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔
*اسم حاصل مصدر کی مثالیں*
مثلاً: چہکنا سے چہک، ملنا سے ملاب، پڑھنا سے پڑھائی، چمکنا سے چمک، گبھرانا سے گبھراہٹ، پکڑنا سے پکڑ، چمکنا سے چمک، سجانا سے سجاوٹ وغیرہ۔
*3۔اسم حالیہ*
اسم حالیہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی فائل یا مفعول کی حالت کو ظاہر کرے۔
*اسم حالیہ کی مثالیں*
ہنستا ہوا، ہنستے ہنستے، روتا ہوا روتے روتے، گاتا ہوا، ٹہلتا ہوا، مچلتا ہوا، دوڑتا ہوا،
*4۔اسم فائل*
ایسا اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کی جگہ استعمال ہو اسم فائل کہلاتا ہے۔
یا
وہ اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور مصدر سے بنے اسم فائل کہلاتا ہے۔
*اسم فاعل کی مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، دیکھنا سے دیکھنے والا، سننا سے سننے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، رونا سے رونے والا وغیرہ۔
*عربی کے اسم فاعل*
اُردو میں عربی کے اسم فاعل استعمال ہوتے ہیں، جو عربی کے وزن پر اتے ہیں۔
*مثالیں*
عالم (علم والا)، قاتل (قتل کرنے والا)، حاکم (حکم دینے والا) وغیرہ۔
*فارسی کے اسم فاعل کی مثالیں*
باغبان، ہوا باز، کاریگر، کارساز، پرہیز گار وغیرہ۔
*اسم فائل کی اقسام*
اسم فائل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں
اسم فاعل مفرد
اسم فائل مرکب
اسم فائل قیاسی
اسم فائل سماعی
*1۔ اسم فائل مفرد*
اسم فائل مفرد وہ اسم ہوتا ہے جو لفظِ واحد کی صورت میں ہو لیکن اُس کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوں۔
*مثالیں*
ڈاکو( ڈاکا ڈالنے والا)، ظالم (ظلم کرنے والا)، چور (چوری کرنے والا)، صابر (صبر کرنے والا)۔ رازق (رزق دینے والا) وغیرہ
*2۔ اسم فائل مرکب*
ایسا اسم جو ایک سے زیادہ الفاظ کے مجموعے پر مشتمل ہو اسے اسم فائل مرکب کہتے ہیں۔
*مثالیں*
جیب کترا، بازی گر، کاریگر، وغیرہ
*3۔ اسم فائل قیاسی*
ایسا اسم جو مصدر سے بنے اُسے اسم فائل قیاسی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا، آنا سے آنے والا، دوڑنا سے دوڑنے والا وغیرہ
*4۔ اسم فائل سماعی*
ایسا اسم فائل جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو، بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو، اُسے اسم فائل سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
شتربان، فیل بان، گویا، بھکاری، جادو گر، گھسیارا، پیغامبر، وغیرہ
*فاعل اور اسم فاعل میں فرق*
*1-فاعل*
فاعل ہمیشہ جامد اور کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہے
*مثالیں*
حامد نے اخبار پڑھا، عرفان نے خط لکھا امجد نے کھانا کھایا، اِن جملوں میں حامد، عرفان اورامجد فاعل ہیں۔
*2-اسم فاعل*
اسم فاعل ہمیشہ یا تو مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
لکھنا سے لکھنے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا یا پھر اس کے ساتھ کوئی فاعلی علامت پائی جاتی ہے۔ مثلا پہرا دار،باغبان، کارساز، وغیرہ
*5۔ اسم مفعول*
ایسا اسم جو اُس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو اسم مفعول کہلاتا ہے۔
یا
جو اسم کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف اشارہ کرے جس پر کوئی فعل یعنی کام واقع ہوا ہو اُسے اسم مفعول کہا جاتا ہے۔
*اسم مفعول کی مثالیں*
دیکھنا سے دیکھا ہوا، سونا سے سویا ہوا، رونا سے رویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، سُننا سے سُنا ہوا، وغیرہ۔
اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے، وقت پر بویا گیا بیج آخر پھل دیتا ہے، رکھی ہوئی چیز کام آجاتی ہے، اِن جملوں میں مظلوم، بویا ہوا، رکھی ہوئی اسم مفعول ہیں۔
*عربی کے اسم مفعول*
عربی میں جو الفاظ مفعول کے وزن پر آتے ہیں، اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
*مثالیں*
مظلوم، مقتول، مخلوق، مقروض، مدفون وغیرہ
اسم مفعول کی اقسام
اسم مفعول کی دو اقسام ہیں
اسم مفعول قیاسی
اسم مفعول سماعی
*1۔ اسم مفعول قیاسی*
ایسا اسم جو قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہو اسم مفعول قیاسی کہلاتا ہے۔
یا
ایسا اسم جو مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا جائے اُسے اسم مفعول قیاسی کہتے ہیں اور اِس اسم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد لفظ ”ہوا“ بڑھا لیتے ہیں۔
*مثالیں*
کھانا سے کھایا ہوا، سونا سے سویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، رکھنا سے رکھا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، وغیرہ
*2۔ اسم مفعول سماعی*
ایسا اسم جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنے بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو اُسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔ سماعی کے معنی سنا ہوا کے ہوتے ہیں۔
یا
ایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو بلکہ جس طرح اہلِ زبان سے سنا ہو اسی طرح استعمال ہو اسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔
*مثالیں*
دِل جلا، دُم کٹا، بیاہتا، مظلوم، وغیرہ
*فارسی کے اسم مفعول سماعی*
دیدہ (دیکھا ہوا)، شنیدہ (سنا ہوا)، آموختہ (سیکھا ہوا) وغیرہ
عربی کے اسم مفعول سماعی
مفعول کے وزن پر، مقتول، مظلوم، مکتوب، محکوم، مخلوق وغیرہ
*مفعول اور اسم مفعول میں فرق*
*1-مفعول*
مفعول ہمیشہ جامد ہوتا ہے اور اُس چیز کا نام ہوتا ہے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو۔
*مثالیں*
عرفان نے اخبار پڑھا، فصیح نے خط لکھا، ثاقب نے کتاب پڑھی، اِن جملوں میں اخبار، خط اور کتاب مفعول ہیں۔
*2-اسم مفعول*
اسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
*مثالیں*
سونا سے سویا ہوا، کھانا سے کھایا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا وغیرہ،
*عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے*: مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ،
یا پھر
*فارسی ?
ٹیچر کسے کہتے ہیں
*ٹیچر کسے کہتے ہیں*؟؟؟
ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﮏ *Teacher* ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ *mostly* ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ *Teacher* ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﻌﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ , ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ....
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ , ﻣﮕﺮ *Teacher* ﮐﯽ ﺩﻭﺭِ ﺟﺪﯾﺪ ﮐﯽ , ﻣﺎﮈﺭﻥ *Defination* ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﻭﮦ *defination* ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ
*TEACHER is equal to Motivator*۔۔
ﺍﮔﺮ ﭨﯿﭽﺮ *Motivate* ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﭘﮍﮬﺎ ﺩﯾﻨﺎ , ﺑﺘﺎﺩﯾﻨﺎ , ﺳﻢﺟﮭﺎﺩﯾﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺍﯾﮏ Spark ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ will, ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎﯾﮧ ﺍﺻﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ .
ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﭽﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ licence ( ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﺎﻣﮧ ) ﻟﮯ ﮐﺮ Teach ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺍﺱ *Teaching licence* ﮐﻮ ﺍﯾﺸﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ 6 ﻣﯿﺠﺮ ﮐﻮﺍﻟﭩﯿﺰ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ...
*.1 Subject Grip*
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﭘﺮ ﮐﻤﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ common ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﮐﺲ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ *Upgraded* ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ؟
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ *knowledge* ﮨﻢ carry ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﮈﮔﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ...
*.2 Communication Skills*
ﯾﮧ ﺑﮩﺖ *important* ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮨﮯ , ﮐﻤﯿﻮﻧﯿﮑﺸﻦ skill ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﻓﻦ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ .
*.3 Social Genius*
ﺍﺱ ﺧﺎﺹ *terminology* ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻠﻨﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﻮ , ﻣﻠﻨﺴﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ . ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ , ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ .
*Motivation.4*
ﭨﯿﭽﺮ ﻣﯿﮟ motivation ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺟﺬﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ *spark*, ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ .
*.5 A True Learner*
ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ , ﺍﮔﺮﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ علم کا ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﯿﮟ ؟
*.6 Progressive Attitude*
ایک ٹیچر کے لیے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ , ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭨﯿﭽﺮ ﻭﮦ ﮨﮯ جو ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا, ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﻮﻡ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎﻧﺎ؟
ﺁﭖ ﺍﻥ قوﺍﻟﭩﯿﺰ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ , ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﯿﭽﺮﺯ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭘﮑﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ گا..
استادی کیا ہے
استادی کیا ہے؟
تدریس بہت اونچااٹھانے کا عمل ہے
بچوں کو بہت آگے بڑھانے کاعمل ہے
تعلیم سے ملتی ہے ہراک شخص کومنزل
بے راہ کو یہ راہ دکھانے کا عمل ہے
مشکل ہے بہت کام کسی فردکی تعمیر
استادی یہی بوجھ اٹھانے کاعمل ہے
ہیں جہل کی دنیامیں پریشان جو انساں
ان لوگوں کوذی علم بنانے کاعمل ہے
کم ترنہیں یہ کام کسی کام سے ہرگز
"ذروں کو یہ خورشید بنانے کا عمل ہے"
گتھی نہ اگرسلجھے کسی باب میں پھرتو
سراپنابہت زیادہ کھپانے کاعمل ہے
بچوں کے لیے جان لگادیتاہےاستاذ
زردارسمجھتاہے کمانے کا عمل ہے
آسانی سے استادنہیں بنتاہے کوئی
اک عرصہ بہت تپنے تپانے کا عمل ہے
رسول اللہ تھے بڑے سب سے معلم
ایساہی بڑاپڑھنے پڑھانے کاعمل ہے
مت بھولنااحسان تم استادوں کا
رشتہ یہ بہرکیف نبھانے کا عمل ہے
Subscribe to:
Comments (Atom)