والشمس تھے رخسار تو واللیل تھیں آنکھیں
اک نور کا سورہ تھا سرا پائے محمد
( جان رابرٹ)
گر چہ نا م ونسب سے ہندو ہوں
کملی والے میں تیرا سادھو ہوں
( ودیاساگر آنند)
سلام اس پرکہ جس کے نور سے پر نور ہے دنیا
سلام اس پر کہ جس کے نطق سے مسحور ہے دنیا
( جگن ناتھ آزاد )
ہادی اعظم، محسن اعظم، شاہ رسولاں، خواجہ بھگواں
ذات مقدس، طیب و اطہر، اللہ اکبر، اللہ اکبر
(جسٹس راناابھگوان داس)
محمد فرستاد و رحمت نمود
محمد طریق شریعت نمود
(منشی ہر گوپال تفتہ)
ہو شوق نہ کیوں نعت رسول دوسرا کا
مضمون ہو عیاں، دل میں جو لو لاک لما کا
(پنڈت موہن دتاتریہ)
اگر تم دیکھنا چاہو خدا کو
کرو راضی محمد مصطفی کو
(الن جون بدایونی)
تاروں میں روشنی ہے تو پھولوںمیں تازگی
یہ وقت ہے ظہور رسالت مآب کا
(سردار گور بخش سنگھ)
ہندو ہوں بہت دور ہوں اسلام سے لیکن
مجھ کو بھی محمد کی شفاعت کا یقیں ہے
( برج ناتھ پرشاد)
سدا ابر کرم چھایا ہوا مسرور رہتا ہے
نبی کی قبر پر اللہ کی رحمت برستی ہے
(رائے بھکر داس)
اے منوہر آپ کی تعریف کوئی کیا لکھے
حق تو یہ ہے جانتا ہے حق ہی شان مصطفی
(منوہر لال)
خدا کا ہی وہ شیدا ہے جو شیدا ہے محمد کا
کہاں ہے دونوں عالم میں کوئی ہمتا محمد کا
(مدن موہن لال)
سلام اس ذات عالی پر،درود اس نور اقدس پر
پڑھو صل علیٰ، ہم مصطفی کی بات کرتے ہیں
( اودے ناتھ)
گلزار مدینہ کیا کہنا، بازار مدینہ کیا کہنا
ایمان کا سکہ چلتا ہے، فردوس کا سکہ چلتا ہے
( کرشن بہاری)
جس کو عطا حضور کے در کی گدائی ہو
قبضہ میں کیوں نہ اس کے خدا کی خدائی ہو
(ڈاکٹر وریندر کمار)
کیوںنہ ہو فخر یہ توقیر ہے کیا کم ہمدم
بخش دی نعت کی جاگیر نبی نے ہمدم
(گوری پرشاد ہمدم)
دیکھ رہا ہوں خواب میں دلبر، ہوں روضے پر
پاس ادب سے دل ہے لرزاں اور سوالی آنکھیں ہیں
(شیو بہادر سنگھ دلبر)
میں یہ سمجھوں دولت کونین اس کو مل گئی
تیرے ساحر کی مدینے میں اگر تربت بنے
( اوم پرکاش ساحر)
ترسیل ۔۔اویس پاشاہ، ہاسن