*وقت چلا، لیکن کیسے چلا*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*زندگی کی، آپا دھاپی میں،*
*کب نکلی عمر ہماری، یارو*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*کندھے پر چڑھنے والے بچے،*
*کب کندھے تک آ گئے؟*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*کراۓ کےگھر سے،*
*شروع ہوا تھا، سفر اپنا*
*کب اپنے گھر تک آ گئے*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*ساٸیکل کے پیڈل مارتے،*
*ھانپتے تھے ہم، اس وقت*
*کب سے ہم، کاروں میں آ گئے*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*کبھی تھے ہم، ذمہ دار، ماں باپ کے*
*کب بچوں کے لیے ہوئے ذمہ دار*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*اک دور تھا، جب دن میں،*
*بیخبر سو جاتے تھے*
*کب راتوں کی ، اڑ گٸ نیند*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*جن کالے گھنے بالوں پر،*
*اِتراتے تھے کبھی ہم*
*کب سفید ہونا شروع ہو گئے*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*در در بھٹکتے تھے ، نوکری کی خاطر*
*کب ریٹاٸر ہو گئے*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*بچوں کیلیے، کمانے بچانے میں*
*اتنے مشغول ہوئے ہم*
*کب بچے ہوئے ہم سے دور*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*اب سوچ رہے تھے،*
*اپنے لیے بھی، کچھ کریں*
*پر جسم نے، ساتھ دینا، بندکر دیا کب*
*پتہ ہی نہیں چلا*
*وقت چلا، پر کیسے چلا*
*پتہ ہی نہیں چلا*
💐🏵️🏵️💐
No comments:
Post a Comment